Article Preview

اردو ناول امراؤ جان ادا: تاریخ، توازن اور ادبی اہمیت

"مرزا محمد ہادی رسوا کا شاہکار اردو ناول "امراؤ جان ادا" برصغیر پاک و ہند کی کلاسیکی داستان گوئی کا ایک ایسا مینارِ نور ہے جس نے لکھنؤ کے زوال پذیر تمدن، لکھنؤی تہذیب کی نفاست اور ایک طوائف کی دردناک سرگزشت کو امر کر دیا۔ 1899 میں شائع ہونے والا یہ ناول محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ انیسویں صدی کے آخر کی اس تہذیب کا مرقع ہے جو سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی لپیٹ میں تھی۔ اس مقالے میں ہم اس ناول کے ادبی مقام، اس کی تاریخی حیثیت، اس کے مرکزی کردار اور اس کے فنی محاسن کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ اردو ناول نگاری کے ارتقاء میں "امراؤ جان ادا" کا مقام اردو نثر اور بالخصوص ناول نگاری جب اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، تو ڈپٹی نذیر احمد کے اصلاحی ناول اور لکھنؤ..."

Check the preview and insightful summaries above, then just click the button below whenever you're ready to read the full content and all its sections.

More from the collection

close